19 اگست، 2026، 5:38 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ؛

ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے، امریکہ کے پاس جنگ سے نکلنے کا کوئی اچھا راستہ نہیں، عالمی میڈیا

ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے، امریکہ کے پاس جنگ سے نکلنے کا کوئی اچھا راستہ نہیں، عالمی میڈیا

امریکی اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ طویل جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، بڑھتی توانائی قیمتوں اور بڑھتے فوجی اخراجات نے امریکہ کے لیے جنگ سے باعزت طور پر نکلنے کے راستے محدود کر دیے ہیں۔

مہر خبر ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اعلان کردہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ کے اعترافات کے مطابق واشنگٹن کو فوجی، سیاسی اور تزویراتی مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ نے جنگ کے اثرات، ایران کے خلاف امریکی پالیسی، آبنائے ہرمز کی صورت حال، واشنگٹن کے بڑھتے اخراجات اور آئندہ ممکنہ منظرناموں کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا ہے۔ ان رپورٹس کے مجموعی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں امریکہ کے لیے نہ تو فوجی دباؤ کے ذریعے مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنا آسان ہے اور نہ ہی جنگ سے فوری طور پر نکلنے کا کوئی واضح راستہ موجود ہے۔

واشنگٹن کے سامنے کوئی اچھا آپشن نہیں، اے پی

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے مقرر کردہ 60 روزہ ڈیڈ لائن پیر کو ختم ہوگئی، لیکن دونوں فریق پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے دور دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ مذاکرات بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے پر مرکوز ہیں، جبکہ آبنائے کے مستقبل یا جوہری مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے کسی سنجیدہ سمجھوتے کے واضح آثار نظر نہیں آتے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ کے پاس اس وقت جنگ سے نکلنے کے لیے کوئی اچھا آپشن نہیں۔ ایران کی شرائط قبول کرنا تہران کو ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ پر اثر و رسوخ دینے اور اسے اپنی پالیسی کی ناکامی تسلیم کرنے کے مترادف ہے، جبکہ جنگ کو مزید بڑھانے سے امریکی جدید میزائل ذخائر پر مزید دباؤ ڈالنے کے ساتھ عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے جون کی مفاہمتی یادداشت کے تیزی سے ناکام ہونے کا بھی جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے صرف ایک ہفتے بعد ان بحری جہازوں پر فائرنگ شروع کر دی گئی جو عمان کے ساحل کے قریب امریکی نگرانی والے راستے سے گزر رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں فریقین ایک بار پھر تشدد اور تعطل کے اسی چکر میں واپس پہنچ گئے جس سے نکلنے کے لیے تفاهم کیا گیا تھا۔

ایندھن کی قیمتیں امریکی عوام کے لیے بڑا بوجھ بن گئیں، گارڈین

دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ امریکہ میں پٹرول کی قیمت اگست میں اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز امریکہ میں ایک گیلن پٹرول کی اوسط قیمت 4.06 ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 5 سینٹ زیادہ اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک ڈالر زیادہ ہے۔ کیلیفورنیا اور ہوائی میں قیمت تقریباً 5.50 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے۔ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی منڈی پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اسی آبی راستے سے گزرتا تھا۔

گارڈین کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت مارچ میں 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ اگرچہ بعد میں یہ کم ہو کر تقریباً 85 ڈالر تک آئی، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق امن مذاکرات کے تعطل اور 60 روزہ سفارتی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد توانائی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

کانگریس کی مشترکہ اقتصادی کمیٹی کے حوالے سے گارڈین نے لکھا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی شہریوں نے پٹرول کے لیے تقریباً 56.4 ارب ڈالر اضافی ادا کیے، جو اوسطاً فی خاندان تقریبا 477 ڈالر بنتے ہیں۔ دوسری جانب دنیا کی آٹھ بڑی تیل کمپنیوں نے موسم بہار کی سہ ماہی میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب ڈالر خالص منافع کمایا۔ رپورٹ میں اس صورت حال کو جنگ کے اقتصادی اثرات کی ایک نمایاں مثال قرار دیا گیا ہے۔

مزید پابندیاں ایران کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کریں گی، عرب میڈیا

عرب میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی دباؤ اور پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی لازماً تہران کو امریکی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرے گی، بلکہ اس کے عالمی معیشت پر بھی بھاری اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ نئی امریکی پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کم کرنا، مالیاتی لین دین محدود کرنا اور حکومت کی داخلی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم دو دہائیوں کے دوران عائد کی جانے والی پابندیوں کے تجربے نے ظاہر کیا ہے کہ ایران نے اقتصادی پابندیوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے اور مختلف راستوں سے ان کے اثرات کم کرنے کی قابل ذکر صلاحیت پیدا کی ہے۔

المیادین نے چین اور ایران کے دیگر اقتصادی شراکت داروں کے کردار کی طرف بھی توجہ دلائی اور لکھا کہ یہ ممالک اپنے تزویراتی مفادات کو محض امریکی پابندیوں کی وجہ سے آسانی سے قربان نہیں کریں گے۔ اگر ایران کا تیل عالمی منڈی سے بڑی مقدار میں خارج ہو جاتا ہے تو توانائی کی قیمتوں اور افراط زر میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال ایران کے لیے نسبتاً بہتر ہو سکتی ہے اور واشنگٹن بالآخر پابندیوں میں مزید اضافے کے بجائے اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے تہران کے ساتھ نئے سمجھوتے یا سابقہ مفاہمت نامے میں ترمیم کی طرف جا سکتا ہے۔

60 روزہ ڈیڈ لائن کا خاتمہ جنگ کے خاتمے یا آغاز کی ضمانت نہیں، رائ الیوم

رائے الیوم نے لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمت نامے کی 60 روزہ مدت ختم ہونے کا لازمی مطلب کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں بلکہ محاذ آرائی اور مذاکرات کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونا ہے۔

اخبار کے مطابق ایران نے ثالثی کے راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے، لیکن وہ امریکی دباؤ کے تحت مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تہران آبنائے ہرمز کو سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے ایک اہم ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن پابندیوں، اقتصادی دباؤ، بحری ناکہ بندی اور فوجی دھمکیوں پر انحصار کر رہا ہے۔

رائے الیوم نے موجودہ صورتحال کے لیے تین ممکنہ منظرنامے بیان کیے ہیں:

1۔ فوجی کشیدگی میں اضافہ

2۔ بیک وقت جنگ اور مذاکرات

3۔ نئے مفاہمت نامے کے ساتھ مذاکرات کی طرف واپسی

اخبار کے مطابق قلیل مدت میں دوسرا منظرنامہ زیادہ ممکن دکھائی دیتا ہے، یعنی کشیدگی اور مذاکرات بیک وقت جاری رہیں۔ اسلام آباد مفاہمت نامے کا خاتمہ سفارت کاری کے خاتمے کے مترادف نہیں، کیونکہ پس پردہ رابطے اب بھی جاری رہ سکتے ہیں۔ تاہم خطے میں اچانک کشیدگی بڑھنے کا خطرہ برقرار ہے۔

2026 کے انتخابات عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، الشرق الاوسط

الشرق الاوسط نے 2026 کے موسم خزاں میں ہونے والے اہم انتخابات کا جائزہ لیتے ہوئے اسے عالمی سیاست کے لیے ایک اہم دور قرار دیا ہے۔ برازیل، اسرائیل اور امریکہ میں ہونے والے انتخابات صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے نتائج عالمی طاقت کے توازن اور بین الاقوامی پالیسیوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

اسرائیل میں کنیسٹ کے انتخابات کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ سیاسی تبدیلی نیتن یاہو کی حکومت اور ان کے سیاسی و عدالتی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات بھی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم امتحان ہوں گے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی سے کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے اور حکومت کی قانون سازی کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔

ایران جنگ سے عالمی سطح پر امریکی فوجی موجودگی متاثر ہو رہی ہے، روسی میڈیا

روسی میڈیا نے جنگ کے حوالے سے تبصرے میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کس طرح دنیا میں امریکی موجودگی کم کر رہی ہے۔ امریکہ نے مشرق وسطی میں اپنے فوجی وسائل بڑھاتے ہوئے ایشیا میں اپنی فوجی سرگرمیوں میں کمی کے اشارے دیے ہیں۔

روسی اخبار ویدوموستی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 اگست کو جنوبی کوریا کے ساتھ سالانہ فوجی مشقوں میں امریکی شرکت کم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے ان مشقوں کے اخراجات اور شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات پر ان کے ممکنہ اثرات کو اس فیصلے کی وجوہات میں شامل کیا۔

اخبار کے مطابق امریکہ نے مشرق وسطی میں اپنے فوجی وسائل کی بڑی تعداد منتقل کی ہے اور خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جارج واشنگٹن کو مشرقی ایشیا سے مشرق وسطی منتقل کیا گیا تاکہ ابراہم لنکن کی جگہ لے سکے۔

روسی ماہرین کے مطابق اگر امریکی بحری اور دفاعی وسائل مسلسل مشرق وسطیٰ منتقل ہوتے رہے تو اس کا نتیجہ ایشیا میں واشنگٹن کی فوجی موجودگی میں کمی کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

روسی محقق پاول کوشکن کے مطابق ایران پر توجہ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی فوجی ضرورت امریکہ کو کم ترجیح والے علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی محدود کرنے کی طرف لے جاسکتی ہے۔

امریکہ ایران جنگ کے نتائج کے دباؤ میں ہے، چینی میڈیا

چین کی خبررساں ایجنسی شینہوا نے ’’امریکہ ایران کے خلاف اپنی جنگ پسندی کے نتائج میں گرفتار‘‘ کے عنوان سے رپورٹ میں لکھا کہ جنگ کے تقریباً چھ ماہ بعد امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن واشنگٹن کی فوجی حکمت عملی کے نتائج کی علامت بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ جاری رہنے سے امریکی فوجی اہلکاروں پر دباؤ بڑھا، فوجی وسائل متاثر ہوئے اور امریکہ کے اخراجات میں اضافہ ہوا، جبکہ واشنگٹن کو کوئی فیصلہ کن نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔

شینہوا کے مطابق ابراہم لنکن 250 سے زائد دن سمندر میں تعینات رہا، جس پر تقریباً 5 ہزار امریکی ملاح اور میرینز موجود ہیں۔

رپورٹ میں بعض ذرائع کے حوالے سے خوراک اور پانی کی قلت، ڈاک کی ترسیل میں مشکلات اور بندرگاہوں پر باقاعدہ قیام نہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض فوجیوں کے خاندانوں نے بھی اہلکاروں کی تھکن اور ذہنی دباؤ کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔

تاہم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسٹ نے ان رپورٹس کو بالکل غلط قرار دیا، جبکہ ٹرمپ نے بھی طویل تعیناتی کے حوالے سے خدشات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

شینہوا کے مطابق پینٹاگون نے جنگی کارروائیوں پر تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، جبکہ استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی جگہ نئے وسائل فراہم کرنے کے لیے مزید 67 ارب ڈالر درکار ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان 18 جون کے امن معاہدے کی 60 روزہ مدت ختم ہونے کا بھی ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ تہران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، جبکہ ٹرمپ ایران سے شکست تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

شینہوا کے مطابق امریکہ کو اب تک نہ تو کوئی فیصلہ کن فوجی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور نہ ہی تنازع کے سفارتی حل کے لیے کوئی واضح راستہ سامنے آیا ہے۔

رپورٹ میں چیتھم ہاؤس کے سابق سربراہ رابن نیبلٹ کے حوالے سے جنگ کے موجودہ نتائج کو امریکہ کے لیے اسٹریٹجک ناکامی اور باعث شرمندگی قرار دیا گیا ہے۔

مختلف امریکی، عرب، روسی اور چینی میڈیا رپورٹس کا مجموعی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ محض فوجی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی منڈی، امریکی معیشت، فوجی وسائل، عالمی سفارت کاری اور خطے کے سیاسی توازن تک پھیل چکے ہیں۔

ایران کی جانب سے امریکی دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنے اور واشنگٹن کی جانب سے جنگ کو فیصلہ کن انجام تک پہنچانے میں مشکلات کے باعث موجودہ صورتحال ایک طویل کشمکش اور مذاکراتی دباؤ کے مرحلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تاہم خطے میں فوجی کشیدگی برقرار رہنے کے باعث کسی بھی وقت حالات کے مزید سنگین ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

News ID 1940761

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha